$0.00

No products in the cart.

آخری زمانے کی ایک اور نشانی

پیارے دوستوں
آخری زمانے کی ایک اور نشانی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبانی
جنہوں نے آج ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ 59 ممالک ان کی مجوزہ مڈل ایسٹ ڈیل کا حصہ ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ ممالک آگے بڑھیں اور حماس کا خاتمہ کریں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی ثالثی میں طے پانے والے Gaza Peace Plan پر عمل درآمد جاری ہے۔
ٹرمپ کی حالیہ تقریر اسی پس منظر میں تھی جہاں آخری زمانے کی ایک نہایت بڑی اور واضح نشانی سامنے آ چکی ہے۔
اس نشانی کو سمجھنے سے پہلے غزہ کو سمجھنا ضروری ہے۔
غزہ کی پٹی (Gaza Strip) ایک تنگ ساحلی علاقہ ہے جو بحیرۂ روم کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ جس کی کل لمبائی 41 کلومیٹر
چوڑائی 6-12 کلومیٹر (اوسطاً 10 کلومیٹر)
اور کل رقبہ تقریباً 365 مربع کلومیٹر بنتا ہے
موجودہ حالات کے مطابق:
اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی کے تقریباً 58 فیصد علاقے پر قابض ہیں
یوں صرف 153 مربع کلومیٹر کا علاقہ حماس کے کنٹرول میں ہے۔ حماس کے جنگجوؤں کی تعداد مختلف اندازوں کے مطابق 7 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
یہ جنگجو پوری دنیا سے کٹے ہوئے زیرِ زمین سرنگوں میں محصور ہیں۔
اب ذرا غور کریں!
اس پورے معاہدے کی سب سے حیران کن اور عقل سے ماورا بات یہ ہے کہ:
یہ کیسا معاہدہ ہے جہاں
سپر پاور امریکہ کا صدر خود اس معاہدے کا ثالث بھی ہے لیکن وہ 59 ممالک سے افواج اکٹھی کرکے اس معاہدے کے کمزور فریق کو ختم کرنے آ رہا ہے۔
یہ منظر تو کربلا کی یاد تازہ کرا دیتا ہے
جہاں ایک طرف بہتر نہتے بھوکے اور پیاسے
محصور سپاہی تھے
جبکہ دوسری طرف کم از کم تیس ہزار پر مشتمل ایک منظم لشکر جو ہر طرح کے جنگی ساز و سامان سے لیس تھا۔
ظاہری حساب سے دیکھا جائے تو اگر تیس ہزار کا لشکر صرف بہتر افراد پر حملہ آور ہو
تو چند ہی منٹوں میں سب کچھ ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
مگر کربلا کی تاریخ کچھ اور ہی گواہی دیتی ہے۔ ہر شہیدِ کربلا کے مقتل کا محفوظ ہونا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ جنگ کی سمت اور اثر بہتر ہی نے متعین کیا۔
بعینہٖ!
آج غزہ ایک نئی کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ایک طرف سات ہزار سے بیس ہزار تک سپاہی محدود علاقے میں محصور ہیں۔
دوسری طرف دنیا کی طاقتور ترین جدید اسلحے سے لیس59 ممالک افواج۔
مگر نتیجہ پھر وہی ہوگا

تاریخ خود کو دہرائے گی
شامِ و کوفہ میں دشمن کا شاید ہی کوئی ایسا گھر بچا تھا جس کا کوئی فرد بہتر کے ہاتھوں مارا نہ گیا ہو۔
غزہ میں بھی یہی منظر دہرایا جائے گا۔
ان 59 ممالک میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کے فوجیوں کی لاشیں اس جنگ کا حصہ بن کر واپس نہ پہنچیں۔
تاریخ یوں ہی خود کو دہراتی رہے گی۔
لیکن دوستو!
یہ 59 ممالک کی افواج
صرف حماس کے لیے نہیں آ رہیں۔
ان کے اصل مقاصد کہیں زیادہ گہرے اور خطرناک ہیں۔
اگر اس کی خبر رسولِ اکرم ﷺ پہلے ہی نہ دے چکے ہوتے تو شاید ہم بھی اسے محض سیاسی تجزیہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے۔
لیکن حضور ﷺ نے چودہ سو سال پہلے ان واقعات کی خبر دے دی تھی۔
قیامت کی نشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے آخر میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً، تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا
پھر تمہارے اور بنی الاصفر (یعنی رومیوں یورپی طاقتوں) کے درمیان ایک صلح ہوگی
لیکن وہ بدعہدی کریں گے
اور پھر تم پر حملہ آور ہوں گے
اس حال میں کہ ان کے ساتھ اسی (80) جھنڈے ہوں گے
اور ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔
(صحیح بخاری: 3176)
روایات میں مزید آیا ہے کہ:
بنی الاصفر کی اس بدعہدی کے بعد
ایک بہت بڑی عالمی جنگ شروع ہوگی
جس میں مشرق و مغرب کی تمام بڑی طاقتیں شامل ہوں گی
قتل و غارت اس حد تک ہوگی کہ زمین خون سے بھر جائے گی
اور یہ جنگ انسانی تاریخ کی سب سے خوفناک جنگوں میں شمار ہوگی
(کتاب الغیبۃ، بحار الانوار)
اسی دوران:
شام میں شدید فتنہ اور قتلِ عام شروع ہوگا
جو درحقیقت آج کے حالات میں واضح طور پر جاری ہے
روایات کے مطابق شام میں تین بڑے گروہ آپس میں برسرِ پیکار ہوں گے:

اصهب یعنی زرد جھنڈے والا

ابقع یعنی چتکبرے جھنڈے والا

سفیانی یعنی سرخ جھنڈے والا
آخرکار سفیانی غالب آ جائے گا۔
(بحار الانوار، الغیبۃ)
سفیانی کا خروج امام مہدیؑ کے ظہور کی پانچ حتمی علامات میں سے ایک ہے۔
جیسا کہ آج اس سے پہلے والی کی پوسٹ میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
سفیانی کا خروج حتمی ہے اس میں کوئی بداء نہیں۔
(الغیبۃ: نعمانی)
جب سفیانی امام مہدیؑ کے خلاف مدینہ سے مکہ کی طرف لشکر روانہ کرے گا
تو بیداء کے مقام پر:
زمین اس پورے لشکر کو نگل لے گی
اس واقعے کا ذکر قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے:
أَفَأَمِنَ الَّذِينَ مَكَرُوا السَّيِّـَٔاتِ أَن يَخْسِفَ اللَّهُ بِهِمُ الْأَرْضَ
کیا برے مکر کرنے والے اس بات سے بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ انہیں زمین میں دھنسا دے؟ (سورۃ النحل: 45)
یہ واقعہ پوری انسانیت کے لیے ایک واضح الٰہی نشانی ہوگا
اور یہ بھی ظہورِ مہدیؑ کی حتمی علامات میں شامل ہے
(بحار الانوار، الغیبۃ)
خسفِ بیداء کے کچھ ہی عرصے بعد:
امام مہدیؑ مکہ میں ظہور فرمائیں گے
خانۂ کعبہ کے پاس اعلان ہوگا
313 خاص اصحاب آپؑ کے گرد جمع ہوں گے
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
سفیانی کے خروج اور قائمؑ کے قیام میں صرف چند مہینوں کا فاصلہ ہوگا۔
(الغیبۃ: نعمانی)
دوستو!
یہی وہ تسلسل ہے
جسے رسولِ خدا ﷺ اور اہلِ بیتؑ نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا
اور آج کے عالمی حالات
اسے ایک ایک کر کے حقیقت کا روپ دیتے جا رہے ہیں۔
امام مھدی کے ظھور کے بعد ان پر ایمان لانا فائدہ نہ دے گا پہلے ایمان لانا لازمی ہے۔
يَوْمَ يَأْتِيَ بَعْضُ ءَايَٰتِ رَبِّكَ لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ ءَامَنَتْ مِن قَبْلُ
اس دن جب تمہارے رب کی کچھ نشانیاں ظہور کرینگی تو اُس وقت کسی شخص کا ایمان اسے فائدہ نہیں دے گا اگر وہ پہلے ایمان نہ لایا ہو۔
(سورہ الانعام:158)
و ما علینا الاالبلاغ المبین

Reviews

Related Articles